ادھر وظیفہ کیا اُدھر حاجت پوری ، بے روزگاروں کیلئے مجرب وظیفہ

یہ وظیفہ آپ جس بھی جائز مقصد کے لیے کر رہے ہیں وہ پورا ہو گا اگر آپ شادی کے لیے کر رہے جہیں تو اچھی جگہ شادی ہو گی یا جہاں چاہیں گے وہاں ہو گی اگر آپ بے روز گار ہیں تو اس کے لیے بھی یہ وظیفہ کر سکتے ہیں دشمن سے چھٹکارا کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے کے لیے

بھی یہ وظیفہ کر سکتے ہیں یہ وظیفہ 3 دن کا ہے انشاءاللہ تین دن کے اندر آپ کو آپ کے مقصد کے اندر کامیابی مل جائے گی
شروع کرنے سے پہلے درود شریف لازمی ہے وظیفہ یہ ہے کہ اللّه کا ایک اسم گرامی ہے یا شکور(اے قدردان) آپ نے 3 دن اس کا ورد کرتے رہنا ہے انشاءاللہ آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا بیماری ہو خوف ہو دل میں کوئی وسوسے ہوں یا کوئی بھی مشکل پیش آے تو صبر کریں الله پہ یقین رکھیں اور یہ وظیفہ کر لیں انشاءاللہ اللّه آپ کی حاجت پوری فرما دیں گے
احادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،ان میں سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں درج ذیل ہے۔ (1) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے. نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟

صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی۔ یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ہو اللّٰہ احد،۳/۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۵)(2) …۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَنے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا۔ ’’اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا۔ یہ سورت رحمن کی صفت ہے۔ اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔( بخاری، کتاب التّوحید، باب ماجاء فی دعاء النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم… الخ، ۴/۵۳۱ ، الحدیث: ۷۳۷۵)(3) …حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ۔

ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی کہ’’ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ ارشاد فرمایا’’ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص، ۴/۴۱۳، الحدیث: ۲۹۱۰)(4) …تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُپڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّفقرو فاقہ سے محفوظ رہے گا (صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶/۲۴۵۰، ملخصاً) اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.