بجلی ، گیس میڑ کا بل نہ ہونے کے برابر آئے گا یہ تعویز اپنے میٹر کے ساتھ لٹکا دو اور پھر کمال دیکھو

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بجلی کا بل کم آئے گیس کا بل کم آئے انٹرنیٹ کا بل کم آئے یہ بہت ہی مجرب عمل ہے اس سے آپکو 150سے زیادہ نہیں آئیگا ۔یہ شیطانی قوتیں ہیں جیسا ہی آپ اس پر عمل کریں گے اس کے بعد میٹر بند ہوجائیگا اور دنیا کی لیبارٹری اس میٹر کو چیک کرلے اسے پہچان نہیں سکے گی کہ اس میٹر کو کیا کیا گیا ہے ۔ دوسرے نمبر پر دیکھیں کہ بجلی ،گیس یا انٹرنیٹ کا بل ہو بہت سارے لوگ پریشان ہیں اتنا بل آجاتا اتنی کسی کی آمدنی نہیں ہوتی

جتنے بل آئے ہوتے ہیں گھریلومعاملات اور بھی زیادہ ہوتے ہیں تو لوگوں ساری ان بل کو جمع کرواتے لگ جاتی ہے یہ عمل کریں اور اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں اور آمدنی کو بچائیں اسے کسی اور مقصد کیلئے استعمال کریں ان کو دے کر کونسا فائدہ ہونا ہے آپ کو اس عمل سے میٹر چلنا بند ہوجائیگا جب بل 150ہوجائیگا ۔ یہ عمل کرکے آپ اپنی آمدنی بچا سکتے ہیں ۔ آپ نے اس نقش پر بل کی تعداد لکھنی ہے اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ڈیڑھ سو نہیں دوسو ہونا چاہیے تو یہاں پر جتنا لکھیں گے اتنا بل آئیگا ۔دوسری جگہ جس کے نام پر میٹر اس کا نام لکھنا ہے ۔لکھنے کے بعد آپ نے کوااو راونٹ کا بلڈ لینا ہے جیسے موٹر سائیکل پٹرول کےبغیر نہیں چل سکتی کچھ تعویز ہوتے ہیں جو بلڈ سے نہیں چل سکتے ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔اس عمل کو کریں اس تعویز کے پیچھے لکھ دینا سید قائم علی شاہ کے غلام ہمارا یہ کام کراس اجازت کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

آپ نے کرنا یہ ہے کہ کواور اونٹ کا بلڈ برابر مقدار میں لے لینا ہے یہ عمل آپ نے کسی بھی ٹائم کرسکتے ہیں ۔ آپ نے جس جگہ قیمت اور نام لکھنے کے بعد اس خون میں اس تعویذ کو بھگونا ہے اور دھوپ میں خشک ہونے کیلئے رکھ دینا ہے پھر میٹر کے خفیہ جگہ میں پائپ کیساتھ کسی تار کیساتھ کالے دھاگے سے اچھی طرح لپیٹ لینا ہے کسی کو شک بھی نہ ہو کہ یہ کیا چیز لپیٹی ہوئی ہے ۔ اس عمل کے کرنے کے بعد آپ کو جتنی تعداد لکھی ہوگی اس سے زیادہ بل نہیں آئیگا ۔جعلی پیر اور عاملوں سے بچیں جو آپ کا نقصان کررہے ہیں ۔اس زکوٰۃ یہ ہے کہ اس عمل کو کرنے سے پہلے دوکلو مٹھائی بچوں میں تقسیم کرنی ہے ۔یہ اس کی زکوٰۃ ادا ہوجائیگی یہ عمل کرنا ہے آپ دیکھیں گے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور کیسے آپ کی آمدنی بچتی ہے آپ اور اخراجات ہیں وہ پورے کریں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.