حضرت آدم ؑ اور اماں حوا کو جنت سےکیوں نکالا تھا؟

حضرت آدم ؑ اور اماں حوا کو جنت سے نکالنے کے بار ے میں بہت سی کہانیاں موجود ہیں۔لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم صرف ان روایت پر یقین کریں ۔ جو کہ قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہےکہ بلاشبہ اللہ کے دشمن ابلیس نے اپنے آپ کو زمین کے جانور وں پر پیش کیا۔ کہ وہ اس کو اٹھا لیں۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائے۔اور آدم ؑ سے بات کرے ۔

ہر جانور نے اسے انکار کیا۔یہاں تک کہ اس نے سانپ سے بات کی اور اس سے کہا کہ میں تجھے اولاد آدمؑ سے بچاؤ گا۔ بلاشبہ تو میری ذمہ داری میں ہے۔ اگر تو مجھے جنت میں داخل کرے تو سانپ نے اسے اپنی دونوں کیچلیوں میں اٹھا لیا۔ حتیٰ کہ اس کو ساتھ لے کر جنت میں داخل ہوگیا۔ سانپ نے شیطان کے منہ سے بات کی اور شیطان نے کپڑے پہنے ہوا تھا۔ اپنے چار ٹانگوں پر چلتا پھرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ننگا کردیا۔ اور اس کو اپنے پیٹ کے بل چلنے پر مجبو ر کردیا۔ شیطان کی مدد کرنے والوں میں سے سب سے پہلا جانور سانپ ہے جس نے اس کی مدد کی۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے ہی روایت ہے۔ کہ جس درخت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ اوراس کی بیوی کو منع فرمایاتھاوہ گندم کا دانا تھا۔ جب انہوں نے وہ دانہ کھایا تو ان کا لباس جو شرمگاہوں پر موجود تھا وہ اتر گیا تھا۔ اور شرم کی وجہ سے انجیرکے پتے ایک دوسرے پر لپٹانے لگے۔ جنت کے درختوں میں سے ایک درخت نے سر پکڑ کر پوچھا کہ کیا تو مجھ سے بھاگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا نہیں لیکن میں اے رب آپ سے شرم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھے جنت عطا نہیں کی تھی۔ او ر اس درخت کے علاوہ سب درخت حلال نہیں کیے تھے۔ آدم ؑ نے کہا اے میرے رب کیوں نہیں ۔ لیکن تیر ی عزت کی قسم میں نے گمان نہیں کیا اس بات کا کوئی شخص آپ کی ذات کے ساتھ جھوٹی قسم کھائے۔ اللہ نے فرمایا میری عزت کی قسم میں تجھ کو ضرور زمین پر اتاروں گا۔ پھر تو سخت زندگی گزارے گا۔ پھر دونوں جنت سے اتارے گئے ۔ حالانکہ وہ جنت میں جوچاہتے تھے وہ کھاتے تھے ۔ اب وہ بے لذیذ کھانے کھانے لگے ۔ اب اس نے لوہے کی کارگری کا جان لیا۔ اور ان کو کاشت کا حکم دیا گیا ۔ انہوں نے کاشت کی اور بیج ڈالا۔ اور پانی پلایا۔یہاں تک کہ وہ پک کر تیا رہوگئ۔ پھر اس کو کاٹا پھراس کو پیس کراور اس کا آٹاگوند کر اس کی روٹی پکائی۔ پھر اس کوکھایا۔ اللہ تعا لیٰ نے پیغام پہنچانا تھا جو پہنچایا۔ حضرت آدمؑ جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اتنا روئے کہ کوئی اتنا نہیں رویا،کہ حضرت داؤد ؑ کا اپنی غلطی پر رونے کو ،ا ور حضرت یعقو ب ؑ کے اپنے بیٹے کی جدائی پررونے کو ا،ور حضرت آدمؑ کے بیٹے کا اپنے بھائی پر رونے کو جب اس نے اس کو قتل کیا ، زمین والوں کے رونے کو ایک ترازو پر رکھا جائے اور دوسری طر ف حضرت آدمؑ کے رونے کو رکھا جائے تو تب بھی حضرت آدم ؑ کے رونے کے برابر نہیں رکھا جاسکتا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *