”درودِ ابراہیمی 25 بار پڑھنے والے کو اللہ کا وعدہ، جبریل امین نے ایسی خوشخبری سنا دی کہ ہر مسلمان یہ عمل ضرور کرے گا“

بے شک اللہ اور اُس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب، در منثور، میں فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو لوگ جوق در جوق رسولِ کریم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ

تبریک پیش کرنے لگے۔علامہ سخاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، کہ آیت شریفہ مُضارع کے صیغہ کے ساتھ ہے جو دلالت کرنے والا ھے اِستمرار اور دَوام پر، یہ آیت دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ اللہ اور اُس کے فرشتے ہمیشہ درود بھیجتے رہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ آیت شریفہ میں حضور کو نبی کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، محمد کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا گیا جیسا کہ اور انبیاء کو ان کے اسماء کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ یہ رسول اکرم کی غایت عظمت اور غایت شرافت کی وجہ سے ہے۔صلوۃ کا لفظ آیت شریفہ میں وارد ہوا ہے اور اُس کی نسبت اللہ جلَّ شانہ کی طرف، فرشتوں کی طرف اور مؤمنین کی طرف کی گئی. ایک مشترک لفظ ہے جو کئی معنی میں مستعمل ہے۔ نسبتیں بدلنے سے معانی ومفاہیم بھی بدل جاتے ہیں۔ درود شریف کی یقینی قبولیت کے لیے انسان کے فکر و نظر اور قلب وذات کا پاک ہونا ازحد ضروری ہے، کیونکہ درود پاک جب ایسی زبان سے ادا ہو جو ریا و غرور، حسد و بخل و دیگر باطنی خباثتوں سے پاک ہو تو سلامتی کے ساتھ شرفِ قبولیت سے نوازا جاتا ہے، لہذا قلوب کو ان جمیع عیوب سے پاک کرنا لازم ہے تاکہ درود شریف کی برکات سے کُلیتاً مُستفید ہوا جا سکے۔مذکورہ بالا آیت کریمہ کے بارے میں علمی نکات کتبِ تفاسیر میں موجود ہیں بالخصوص مولانا

محمد زکریا کاندھلوی کا رسالہ، فضائل درود شریف، ایک بہترین تحقیق ہے۔اس تحریر کا مقصد ان اکابرین علماء ومشائخ وصوفیاء کا ذکر کرنا ہے جن کے معمولات میں درود شریف کی تسبیحات شامل تھیں۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ہر روز بعد نماز فجر طلوع آفتاب تک قبلہ رو بیٹھتے اور درود شریف پڑھتے تھے۔سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ شب برات میں ایک تہائی رات درود و سلام پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا امام جعفر صادقؒ ماہ شعبان میں ہر روز سات سو مرتبہ درود شریف پڑھنے کی بہت ذیادہ فضیلت بیان کرتے تھے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ پر جب کوئی صدمہ پیش آتا تو اللہ کریم کی جانب متوجہ ہوتے اور اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نفل پڑھتے تھے، نماز کے بعد 100 مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے اور کہتے تھے۔ اَغِثنِی یَا رسول اللہ علیک الصلوة والسلامشیخ محمد چشتی بدایونیؒ روزانہ 10000 مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے۔ درود شریف کی وجہ سے آپ کو طے الارض حاصل تھا۔ آپ ہر جمعہ کو طواف کے لیے مکہ مکرمہ جاتے تھے۔یر سید جماعت علی شاہ ؒ اپنے مریدین کو درود شریف پڑھنے پر بہت زور دیتے تھے۔ نماز تہجد کے بعد کم از کم ایک سو گیارہ مرتبہ درود شریف ہزارہ پڑھنے کا اکثر حکم فرماتے تھے، اور خود روزانہ نماز تہجد کے بعد 300 مرتبہ درود شریف پڑھتے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *