رات تین سے پانچ کے درمیان آنکھ کیوں کھلتی ہے ؟ اللہ رات تین سے پانچ کے درمیان کیا اشارہ دیتا ہے ؟مسلمانوں لازمی جان لو

اکثر لوگوں کی شکایت ہوتی ہے ہماری نیند اچھی نہیں ہے اور رات میں کئی مرتبہ ہماری آنکھ کھل جاتی ہے۔ اور اس وجہ سے نیند خراب ہوتی ہے۔ ہم میں سے شاید کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو رات میں ایک دو مرتبہ جاگتا نہ ہو۔

کیونکہ کبھی کسی فکر یا پریشانی کی وجہ سے اور کبھی برا خواب دیکھنے پر بھی انسان اچانک بیدا رہوجاتاہے۔ کبھی اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے کہ رات تین سے پانچ بجے کے دوران آ پ کی عموماً آنکھ کھل جاتی ہے۔ اور اس لمحے کے دوران آپ اچانک سے جا گ جاتے ہو۔ یقیناً بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہوگا۔ شاید ہم نے کبھی غور نہیں کیا۔

خواتین وحضرات دنیا میں ہرامیر وغریب ، نیک و بد کو قدرت کے قانون تحت دکھوں اور غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتاہے اور دنیا مصبیتوں اور غموں او رپریشانیوں کا گھر ہے۔ بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سےپریشان ہیں۔ کچھ لوگ مال واسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتےہیں۔

یعنی انسان کسی نہ کسی فکر یا پریشانی کی وجہ سے نیند کی کمی کا شکار ہوتا ہے لیکن عموماً ایسا ہوتا ہے کہ رات مخصوص وقت یعنی تین سے پانچ بجے کے دوران ہم اچانک سے جاگ جاتےہیں۔ یقیناً بہت کم لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہوگا؟

کبھی غور نہیں کیا کہ ایسا کیوں ہوتاہے؟ اگر ایسے ہو تو اس وقت آپ نے کرنا کیا ہے۔ اگر آپ رات تین سے پانچ بجے کے درمیان اچانک نیند سے بیدار ہوجاتےہیں۔ آپ کسی مرض میں مبتلا نہیں بلکہ خوش نصیب انسان ہیں۔ کیونکہ اس لمحے کے دوران آپ کا رب آپ کو یا دکرتا ہے۔ یہ رحمت ک فرشتے ہوتےہیں۔ جو آپ کو باربار نیند سے اٹھاتے ہیں۔ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے زیادہ قریب ہوتاہے۔

تاکہ وہ ان کے لیے رحمت اور ت وبہ کے دروازے پوری طرح کھول دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ہمارا بزرگ وبرتر پروردگار ہر رات آسمان سے دنیا پر نزول فرماتا ہے جب آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتاہے تو آواز دیتا ہے کو ن ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس دعا قبول کروں۔

کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو اس کی مطلوبہ چیز عطا کروں ۔ کون ہے جو مجھ سے بخشش عطا کرے ۔ اور میں اسے بخش دوں۔ ہے کوئی ت وبہ کرنے والامیں اس کی ت وبہ قبول کروں۔ ہے کوئی سائل جسے میں عطا کردوں۔

یہاں تک کہ صبح طلوع ہوجاتی ہے۔ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو اس قیمتی وقت کی اہمیت بتاتے چلیں۔ کہ یہ وقت کتنی اہمیت کا حامل ہے جب ہمارا مالک خود ہی آواز دیتا ہے مانگ لو مجھ سے جو بھی اسوقت مجھے سے مانگنا ہے۔ اگر آ پ کی آنکھ تین سے پانچ بجے کے دوران کھل جاتی ہےتو فوراً اٹھ جا ئیں تو اپنے رب سے اپنے لیے مانگ لیں۔ اور اس مقد س اور لمحے والے سے فائدہ اٹھائیں۔ اس وقت میں آپ کو بار بار پکارا جاتا ہے ۔

کہ اے انسان !آپ کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہےاسے پہچانو اور اسے پورا کرو۔ رات کو تین سے پانچ کے درمیان آنکھ کھلنے کے پیچھے کیا اشارہ ملتا ہے اور یہ اچھا شگون ہے یا نہیں ؟

رات کو تین سے پانچ کے درمیان کا وقت تہجد کا وقت ہوتا ہےاس وقت انسان کی آنکھ کیوں کھلتی ہے ؟تہجد کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ومن اللیل فتہجد بہ نافلۃ لک عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھ لیا کرو جو آپ کے حق میں زائد چیز ہے۔

کیا عجب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں جگہ دے مقام محمود مقام شفاعت کبریٰ ہے جس پر قیامت کے دن فائز ہو کر آپﷺ اپنی امت کی بخشش کرائیں گے مذکورہ ارشاد کی روشنی میں مسلمان کو چاہئے کہ رات کو جس وقت آنکھ کھل جائے وضو کر کے دو رکعت چار رکعت چھ رکعت یا آٹھ رکعت جس قدر طاقت اور فرصت ہو دل کی رغبت ہو پڑھ لیا کریں تہجد کا ثواب مل جائے گا یادرہے کہ تہجد کے لئے کوئی خاص سورتیں نہیں جس جگہ سے یاد ہو اور دل چاہے پڑھ لیا کریں چونکہ آپﷺ کا تہجد کے بارے میں ارشاد ہے

فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے تہجد کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں ۔ہر انسان کی آنکھ رات کے اس پہر کیوں کھلتی ہے ؟ اس بارے میں ماہرین کیا کہتے ہیں؟

کیا آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی ہر رات ایک ہی وقت اچانک آنکھ کھلتی ہے۔تو اس بارے میں پریشان مت ہوں کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ تو صحت مندی اور اچھی نیند کی ایک علامت ہے اور اگر اسلامی تناظر میں دیکھا جائے تو اگر آپ کی آنکھ روزانہ اچانک کھلتی ہے اور وہ وقت رات کے تین سے پانچ کا وقت ہوتا ہے

تو پھر یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کیونکہ اس وقت آپ کی آنکھ کھلناا للہ کی طرف سے آپ کو اس بات کی دعوت ہے کہ آپ اس وقت اپنے اللہ کو یاد کریں اور اپنے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوں یاد رہے کہ یہ وقت وہ وقت ہوتا ہے کہ جس میں اللہ رب العزت آسمان دنیا پر تشریف فرما ہو کر اپنے بندوں کو پکارتے ہیں کہ ہے

کوئی جو مجھ سے معافی مانگے میں اس کو معاف کروں اور ہے کوئی کہ مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں اور بندے کی اس وقت میں آنکھ کھلنا اس لئے موقع ہے کہ وہ اس مبارک وقت میں اپنے رب کو یاد کرے اور اپنے پیارے آقاﷺ کی سنت کو زندہ کرے یعنی تہجد کی نماز ادا کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.