رمضان کے پہلے عشرے میں چلتے پھرتے یہ ایک لفظ پڑھ لو، اتنی دولت ملے گی کہ سمیٹنا مشکل ہو جائے گا

رمضان المبارک کا مبارک مہینہ شروع ہو چکا ہے اور کون مسلمان ایسا ہو گا جو اس مہینے کی عظمت اور برکت سے واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نامعلوم کیا کیا رحمتیں اس مہینہ میں اپنے بندوں کی طرف مبذول فرماتے ہیں۔ ہم ان رحمتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اس مہینے کے اندر بعض اعمال ایسے ہیں۔

جن کو ہر مسلمان جانتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے ۔ مثلاً اس ماہ میں روزے فرض ہیں۔ مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی توفیق ہو جاتی ہے۔ تراویح کے بارے میں معلوم ہے کہ یہ سنت ہے، مسلمانوں کو اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔لیکن اس وقت کورونا وباء کی وجہ سے احتیاط لازم ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اس میں روزے رکھے جاتے ہیں اور تر اویح پڑھی جاتی ہے۔ اور بس، اس کے علاوہ اور کوئی خصوصیت نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دونوں عبادتیں اس مہینے کی بڑی اہم عبادات میں سے ہیں۔ لیکن بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوتی، بلکہ در حقیقت رمضان المبارک ہم سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فر مایا ہے کہ: میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اور صرف ایک کام کیلئے پیدا کیا۔

وہ یہ کہ میری عبادت کریں۔روزہ اور تراویح سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دیگر کاموں سے فارغ ہوکر عبادت کیجئے۔ اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کچھ زیادہ کیجئے اور کچھ نوافل زیادہ پڑھیے ۔ پانچ وقت کی نماز مساجد میں ادا نہ کرنے والے بھی نماز تراویح میں روزانہ شریک ہوتے ہیں۔ یہ سب الحمد للہ اس ماہ کی برکت ہے کہ لوگ عبادت میں، نماز میں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے ہیں۔ان سب نفلی نمازوں، نفلی عبادات اعلی ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن کریم سے زیادہ مقدم ایک اور چیز ہے۔ جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ۔ وہ ہے اس مہینے کو گناہوں سے پاک کر کے گزارنا ،تاکہ ہم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔ اس مبارک مہینے میں آنکھ نہ بہکے،کان غلط بات نہ سنیں، زبان سے کوئی غلط کلمہ نہ نکلے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی معصیت سے مکمل اجتناب ہو۔

یہ مبارک مہینہ اگر اس طرح گزار لیاتو آپ قابل مبارک باد ہیں اور یہ مہینہ آپ کے لئے مبارک ہے۔ یہ اللہ تبارک تعالیٰ کا ایک مہینہ آرہا ہے کم از کم اس کو تو گناہوں سے پاک کر لو، اللہ کی نافرمانی نہ کرو، جھوٹ نہ بولو، غیبت نہ کرو، بد نگاہی کے اندر مبتلا نہ ہو، رشوت اور سود نہ کھاؤ، کم از کم یہ ایک مہینہ اس طرح گزار لو۔جہاں تک عبادات کا تعلق ہے تمام مسلمان ماشاء اللہ جانتے ہیں کہ روزہ رکھنا، تراویح پڑھنا ضروری ہے، اور تلاوت قرآن کو چونکہ اس مہینے سے خاص مناسبت ہے چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ رمضان کے مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پورے قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے۔

اس لئے جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکے اس مہینہ میں تلاوت کریں اور اس کے علاوہ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے زبان سے اللہ کا ذکر کریں اور تیسرا کلمہ:سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور درود شریف اور استغفار کا چلتے پھرتے اس کی کثرت کا اہتمام کریں اور نوافل کی جتنی کثرت ہو سکے کریں۔ اور عام دنوں میں رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن رمضان المبارک میں چونکہ انسان سحری کے لئے اٹھتا ہے تھوڑا پہلے اٹھ جائے اور تہجد پڑھنے کا معمول بنالے اور اس ماہ میں نماز خشوع کے ساتھ اور با جماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کر لیں یہ سب کام تواس ماہ میں کرنے ہی چاہئیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.