شعبان المعظم میں یہ عمل کیا کل شام کو مجھے باس نے فون کیا اور خوشخبری سنا دی،زبردست وظیفہ

حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا مَیں تم کو وہ عمل بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے مالک کی نگاہ میں پاکیزہ تر ہے اور تمہارے درجوں کو دوسرے تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے اور اللہ کی راہ میں سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بھی زیادہ اس میں خیر ہے اور اس جہاد سے بھی زیادہ تمہارے لئے اس میں خیر ہے، جس میں تم اپنے دشمنوں اور خدا کے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارو اور وہ تمہیں ذبح کریں اور شہید کریں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا:ہاں یا رسول اللہﷺ ایسا قیمتی عمل ضرور بتایئے

آپ نے فرمایاوہ اللہ کا ذکر ہے۔آج کے اس وظیفہ سے ایک شخص نے بتایا کہ اس وظیفہ جو بتائیں گے کہ اتنافائدہ حاصل ہوا کہ ایسے مسائل اور ایسی پریشانیاں جو حل نہیں ہورہی تھیں یہ وظیفہ لگاتار شروع کیا تو میری پریشانیاں دکھ تکلیفیں دور ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وظیفہ کی برکت سے اتنا زیادہ نوازا ہے کہ بتانہیں سکتے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وظائف سے کچھ نہیں ہوتا جو قسمت میں لکھا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے دینا ہے ۔ تو اہم ان سے صرف حضرت علی ؓ کا ارشاد مبارک سامنے رکھیں گے کہ ایک شخص حضرت علی ؓ کی خدمت حاضر ہوا اور کہنے لگے کہ جب سب کچھ ہماری قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے ہم یہ وظائف اور دعائیں صبح وشام کیوں کرتے ہیں تو حضرت علی ؓ نے خوبصورت جواب دیا اے آنے والے شخص کیا پتہ تیری قسمت میں یہی لکھا ہو کہ تو وظائف اور دعائیں کرے گا

تو تجھے رزق دیا جائیگا ۔ یہ بات اگر سب کے ذہن میں بیٹھ جائے کیا پتہ ہماری قسمت میں یہی لکھا ہو کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے رزق کی تمنا کریں گے ساتھ ساتھ قرآنی پڑھیں گے تو انشاء اللہ رب کریم ہمیں ضرور نوازے گا۔یہ اگر انسان خالص نیت ذہن میں رکھ کر وظائف کو کرے گا تو ضرور فائدہ ملے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم ایک عام انسان کو دنیا کا امام بنا دیتے ہیں جس انسان کے اندر یہ دوچیزیں موجود ہوں ۔ پہلی چیز جس کے اندر صبر ہو ہم اس انسان کو دنیا کا امام بنا دیتے ہیں ۔ دوسری چیز یقین ہے یہ عموماً علمائے کرام جمعۃ المبارک کی بابرکت گھڑیوں میں جب خطاب فرماتے ہیں

تو اکثر یہ علمائے کریم یہ آیت ضرورپڑھتے ہیں۔ وظائف بھی کریں اور صبر بھی بہت ضروری ہے اگر ایک شخص جوکہتا ہے کہ ہم لگاتار وظائف کررہے ہیں لیکن فرق نہیں پڑرہا ہے تو اس آیت کی رو سے صبر اور یقین کا ہونا لازم ہے ۔آپ نے آخری عشرہ پورا لگاتار یہ عمل کرنا ہے آپ نے تسبیح فاطمہ 33بار سبحان اللہ 33بار الحمداللہ اور34بار اللہ اکبرتین مرتبہ صبح کو پڑھنی ہے اور تین مرتبہ ظہر کی نما ز کے بعد پڑھ لیں ۔ آپ نے دس دن لگاتاریہ عمل کرنا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ رجب المرجب شریف کا مہینہ ختم ہوجائے تو پھر بھی یہی روٹین رکھنی ہے کہ کم از کم ہر نماز کے بعدایک مرتبہ تسبیح فاطمہ ضرور پڑھا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل اور اس پر پختہ یقین کرنے پر عمل فرمائے ۔آ پ نے وظائف کی ساتھ ساتھ پانچ وقت نماز کوبھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *