”مایوسی اور ناامیدی ختم کرو صرف 2 کام کرو؟“

خواہشوں کا قید ی ہوں مجھے حقیقتیں س زا دیتی ہیں۔ آسان چیزوں کا شوق نہیں مجھے مشکلیں مزا دیتی ہیں۔ اگر تم واقعی میں کچھ کرنا چاہتے ہوتو آپ کوئی راستہ ضرور نکال لو گے ۔ لیکن اگر آپ سنجیدہ نہیں ہوتو ہمیشہ بہانے تلاش کرو گے۔ انسان کو بس ایک بار ہی آزمانا چاہیے پھر جو اس کا رنگ ہوتا ہے۔ بس وہی اس کا رنگ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آپ کو نہیں آپ خود کو دھو کا دیتے ہو۔ اگر کچھ الگ کرنا چاہتے ہو تو بھیڑ سے ہٹ کر چلو، بھیڑ ہمت تو دیتی ہے۔ لیکن شناخت چھین لیتی ہے۔ اگر تم اپنی زندگی کے فیصلے خود نہیں کرو گے ۔ تو امکانات ہیں کوئی اور آپ کے فیصلے کرے گا۔ مایوس ہونے کے بجائے پرسکون ہونا سیکھو۔ کامیاب لوگ ہو کام کرتے ہیں۔ جو ناکام لوگ نہیں کرپاتے۔ اگرآج چند چیزوں کے لیے مخلص ہوجاؤ گے

تو ایک دن ضرور بہت سی چیزوں کے مالک بن جاؤ گے۔ دنوں کی بہت قدر قیمت ہوتی ہے۔ اگر ایک دن گزر جائے تو اس کا مطلب ہے آپ کے پاس ایک دن کم ہوگیا ۔ اس لیے ہر ایک دن کو سوچ سمجھ کر گزاریں۔ میں اپنی ناکامی کا الزام دوسری چیز پر ڈالتا رہا جب مجھے احساس ہوا مسئلہ میرے اپنے اندر تھا۔ اگر خوش ہوتو آہستہ سے ہنسا کرو تاکہ غم نا جاگ جائے، اور اگر اداس ہوتو آہستہ رویا کرو، تاکہ آنے والی خوشی کہیں نا امیدی میں نہ بدل جائے۔ جہاں بھی رہو خدا سے ڈرو، ہمیشہ حق بات کہو اگر چہ تلخ ہو۔ لوگ تمہاری عقل سے تمہاری شخصیت کا وزن کرتے ہیں، لہٰذا تم اپنی عقل کا وزن اپنے علم سے بڑھاؤ۔ کسی کو چاہنا ہوتو د ل سے چاہو ، زبان سے نہیں اور کسی پر غصہ کرو تو صرف زبان سے دل سے نہیں۔ بچے کو جب کوئی تکلیف یا بیماری آتی ہے

تو اللہ اس بچے کی بیماری کے بدلے بچے کی ماں کے گن اہ معاف فرماتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنی بھوک مٹانے کے لیے روٹی چوری کرے تو چور کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے بادشاہ کے ہاتھ کاٹے جائیں۔ جو بات کوئی کہے تو اس کے لیے برا خیال اس وقت تک نہ کرو، جب تک اس کا کوئی اچھا مطلب نکل سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنی پریشا نیوں کو لوگوں پر ظا ہر کیا تو وہ اپنی ذلت پر راضی ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جس آدمی کی زبان خراب ہو جاتی ہے اس کا نصیب بھی خراب ہوجاتاہے۔ پریشانی خاموش رہنے سے کم، صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ دو طرح کے ہیں ایک سخی لیکن ان کے پاس پیسہ نہیں ہوتا، دوسرے مالدار مگر وہ کسی کی حاجت روائی نہیں کرتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.