”میرے ایک دوست پر دو کروڑ کا قرض تھا اس نے یہ وظیفہ کچھ دن کیا کچھ ہی دنوں میں اللہ کی غیبی مدد آگئی۔“

اللہ تعالیٰ کی ذات سے مایوس نہ ہوں، ہر تکلیف و آزمائش اور سہولت وخوشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے پریشانیوں اورمصائب کا حل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ذریعے بھی متوجہ ہوں اور اپنے مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیجیے، اور اللہ تعالیٰ کو اپنے مسائل کے حل کا

وکیل بنادیجیے، اللہ تعالیٰ کبھی آپ کا سہارا نہیں چھوڑیں گے۔ عاملوں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین و توکل میں بھی کمی آتی ہے، اس کےبجائے درج ذیل ہدایات پر عمل کیجیے: اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اسے مضبوط کرنے کی ہر انسان کو ضرورت ہے، اگر نمازوں کی پابندی نہیں ہے تو پنج وقتہ نماز باجماعت کا اہتمام کیجیے، نمازوں کے بعد دعائیں بھی کیجیے اور استغفارکی کثرت کریں، نیز درج ذیل اعمال کا اہتمام کریں: سورہ واقعہ اور سورہ طارق فجر اور مغرب کے بعد ایک ایک مرتبہ پڑھنےکا اہتمام کریں۔ فجر کی نماز کے بعد ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کریں، ان شاءاللہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہیں گے: اَللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ ۔ ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ۔نیز حسبِ توفیق صدقہ نکالنے کا معمول بنالیجیے، اگر پہلے سے معمول ہے تو اسے جاری رکھیے، اور بہتر یہ ہے کہ صدقہ یا تو دینی طلبہ پر خرچ کیجیے، یا اپنی ضرورت مند بہنوں پر,ان شاء اللہ اللہ رب العزت آپ کے مسائل حل فرمادیں گے۔ جس شخص نے قرض لیا ہو۔ اور اس
سے جان نا چھوٹ رہی ہو۔ تو وہ ایک سورۃ صبح اٹھتے ہی تین بار پڑھے۔ جتنا بھی قرض ہو گا انشاءاللہ اتر جائے گا۔ سود والا قرض کبھی بھی نا لیں ۔ اس سے گھر میں برکت نہیں ہوتی۔ مال میں برکت نہیں ہوتی۔ اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ہمارے گھر برکت نہیں ہے اس کی وجہ سود والا قرض ہوتی ہے ان کے گھر اور مال سے برکت چلی جاتی ہے ۔ پھر وہ جتنی بھی بچت کر لیں جتنا بھی مال اکٹھا کرلیں گھر میں برکت نہیں ہوتی گھر میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے ۔جب بندہ گھر میں سود کا مال لینا دینا شروع کر دیتا ہے تو حرام مال کی وجہ سے برکت نہیں رہتی۔ حدیث بنوی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔جو شخص سود لیتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے وہ اپنی ماں سے بدفعلی کرتا ہے۔اس سے پتا چلتا ہےتو یہ سود کس قدر بری چیز ہے۔ یہ عمل نماز فجر کے بعد کرنا ہے۔ نماز فجر کے بعد باوضو حالت میں آپ نے اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھنا ہے اور درمیان میں تین بار سورۃ التکاثر پڑھنی ہے جو کہ تیسویں پارے میں ہے انشاءاللہ یہ کرنے سے آپ کا سارا قرض اتر جائے گا ۔ آپ کے سارے قرض ادا ہو جائیں گے۔ اس قرض کے ادا ہونے کے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو اللہ پاک کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے یہ عمل کریں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *