میں نے دجال کا خفیہ محل تقریباً مکمل کر لیا ہے اور بہت جلد فلسطین کا صرف نام باقی رہ جائے گا ، کن کن علاقوں پرہماری حکومت قائم ہونے والی ہے ؟ ریت کا عظیم ترین طوفان ، اسرائیل کے وزیر اعظم نے امریکی صدر سے کیا باتیں کیں ؟جانیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) خوابوں کو اسلام میں ایک الگ مقام حاصل ہے ، کچھ خواب سچے ہوتے ہیں اور کچھ خواب صرف طبیعت کی خرابی کا نتیجہ ہو تے ہیں ۔ قارئین محمد قاسم اپنے الہامی خوابوں سے متعلق دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ان کا ایک خواب ہم آپ کو سنانے جا رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ کا صدر اسرائیل کا دورہ کرنے جاتا ہے۔ میں دل میں کہتا ہوں کہ ضرور کوئی بات ہے جو امریکہ کا صدر اسرائیل گیا ہے۔ مجھے کھوج لگانی چاہیے کہ وہ کیا ملاقات کرتے ہیں۔ میں کوٹ پینٹ پہن کر جہاز نما مشین میں اسرائیل پہنچتا ہوں۔ امریکہ کا صدر اور اسرائیل کا وزیر اعظم ایک عمارت میں ملاقات کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے اندر جانا ہو گا اور اگر اللہﷻ نے چاہا تو مجھے کوئی بھی نہیں پہچان سکے گا۔

میں اللہﷻ کا نام لے کر اندر جاتا ہوں، مجھے کوئی بھی نہیں روکتا۔ سب یہی سمجھتے ہیں شاید میں بھی اِس ملاقات میں حصّہ لینے آیا ہوں اور کسی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہوں۔ عمارت میں ایک بڑا ہال ہوتا ہے وہاں کافی لوگ جمع ہوتے ہیں۔ میں امریکہ کے صدر اور اسرائیل کے وزیر اعظم پہ نظر رکھتا ہوں، پھر وہ دونوں کونے میں ایک چھوٹے کیبن نما جگہ کے پاس جاتے ہیں۔ میں بھی اُن کے پیچھے جاتا ہوں۔ جب وہ دونوں وہاں بیٹھ کر باتیں شروع کرتے ہیں تو میں سوچتا ہوں مجھے اُن کے پاس جانا چاہیے ورنہ مجھے نہیں پتا چلے گا وہ آپس میں کیا باتیں کر رہے ہیں، مجھے ابھی تک کسی نے نہیں پہچانا تو یہ بھی نہیں پہچان سکیں گے، تو میں بھی اُن کے پاس چلا جاتا ہوں-اسرائیل کا وزیر اعظم امریکہ کے صدر کو بتاتا ہے کہ میں نے دجّال کا خفیہ محل تقریباً مکمل کر لیا ہے اور بہت جلد فلسطین کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور پورے مشرقِ وسطی پر ہماری حکومت ہو گی، تو امریکہ کا صدر کہتا ہے مشرقِ وسطی نہیں بلکہ پوری دنیا پر ہماری حکومت ہو گی، میں یہ سن کر بہت حیران ہوتا ہوں کہ اسرائیل نے دجّال کا محل بنا بھی لیا ہے اور مجھے پتا بھی نہیں چلا! میں پریشانی کے عالم میں وہاں سے نکلتا ہوں۔

میں اُس عمارت سے نکل کر فلسطین کی طرف جاتا ہوں، تو میں دیکھتا ہوں کہ اسرائیل کی فوج فلسطینیوں کے گھروں کو توڑنے کے لیے آ رہی ہوتی ہے اور چھوٹے چھوٹے فلسطینی بچّے اپنی ماؤٔں کے ساتھ بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ میں اِن بچّوں کو دیکھ کر بہت افسردہ ہوتا ہوں کہ اُن پر بہت بڑی مصیبت آرہی ہے۔ یہ بےچارے کیسے زندہ رہیں گے؟ اِن کی کون مدد کرے گا؟ پھر میں دیکھتا ہوں کہ وہ سارے اُسی عمارت کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جہاں سے میں نکلتا ہوں۔ میں اُن کو روک کر کہتا ہوں تم اِس عمارت کی طرف کیوں جا رہے ہو۔ اِسی عمارت میں تو تمہاری موت کے منصوبے بن رہے ہیں۔ تو عورتیں کہتی ہیں کہ ہم اپنے اِن چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جائیں؟ ہمارے پاس اور کوئی راستہ کار نہیں تھا۔ شاید وہ ہمیں مار دیں مگر ہمارے بچوں کو چھوٹ دیں۔ یہ سن کر مجھے اور بھی دکھ ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں وہ بہت ظالم لوگ ہیں، وہ تو سب کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ میں جلدی سے جہاز میں بیٹھ کے دجّال کا محل کو تلاش کرنے کے لیے نکلتا ہوں تاکہ اُس کو مکمل ہونے سے پہلے تباہ کر دوں۔

جلد ہی مجھے دجّال کا محل مل جاتا ہے۔ جب میں محل کے قریب پہنچتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہ ایک بھورے رنگ کی عمارت ہوتی ہے جو کہ مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے اور مجھے وہاں سے نکلنا چاہیے۔ میں جیسے ہی واپس مڑتا ہوں تو ایک دھماکا ہوتا ہے، جس سے ایک طوفان جنم لیتا ہے اور ہر طرف ریت اور مٹّی اڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں تباہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مسلمانوں کے گھر بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ مجھے اُن بچوں کا خیال آتا ہے۔ میں اُن کو اِس طوفان میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں مگر طوفان بہت تیز ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی بھی زمین پر نہیں پڑتی جس کی وجہ سے درجہ حرارت بھی بہت کم ہو جاتاہے۔ پھر مجھے وہ عورتیں اور بچے دور سے نظر آتے ہیں۔ میں اُن بچوں کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ کھلے آسمان تلے اتنے کم درجہ حرارت میں کیسے زندہ رہیں گے؟ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ اُن تک پہنچ سکوں لیکن ریت کا طوفان شدید ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں اُن تک نہیں پہنچ پاتا۔ میں کہتا ہوں افسوس میں اِن بچوں کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا اور نہ ہی اس طوفان میں اُن کی مدد کو کوئی آئے گا۔ اللہﷻ ہی اُن کی مدد کرے تو کرے۔ وہ ریت کا طوفان پھیلتا چلا جاتا ہے اور تباہی مچاتا چلا جاتا ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ قاسم! واپس چل، اگر یہ مشین خراب ہو گئی تو میں بھی یہاں پھنس جاؤں گا۔ پھر میں پاکستان کی طرف نکل پڑتا ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.