نبی کریمﷺ نے فر ما یا میری امت کے لوگوں کو بتا دو، جو ایک بار یہ عمل کر لے گا وہ ہر بلا ہر وائرس سے محفوظ ہو جائے گا ، گارنٹی والاوظیفہ

آج جو وظیفہ لے کر حاضر ہوئی ہوں وہ ہر بیماری سے علاج کے لیے ہے کہ قیامت تک آنے والی ہر بیماری سے اللہ پاک آپ کو بچائیں گے۔ یہ نبی کریم ﷺ کے فر مانِ مبارک پر جو مشتمل ہے وظیفہ تو اس کا ایک ایک لفظ آپ کے لیے نا یا ب بن جائے گا ۔ آپ اس کے اس سے مکمل طور پر مستفید ہو سکیں

کیونکہ یہ نبی کریم ﷺ کا بتا یا ہوا عمل ہے انشاء اللہ قیامت تک آنے والی ہر بیماری سے ہر وبا سے ہر وائرس سے اللہ آپ کو بچائیں گے اگرآپ بچنا چاہتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے علاج کو جو آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا ہے اس وظیفے کو کر لیتے ہیں تو ضرور آپ اپنا ئیں گے ۔

کہ دنیا میں کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا اللہ نے زمین پر علاج نہ رکھا ہو یعنی کہ نہ اتارا ہو۔اللہ نے ہر بیماریکا علاج زمین پر اتارا خواہ وہ وبا ہو یا وائرس ہو اللہ نے اس کا علاج اتارا ہے ۔ وہ بیماری ہے ہی جس کا علاج ہی نہ ہو جاننے والے اس کو جان لیتے ہیں اور جو نہیں جانتے وہ نہیں جان پاتے۔

لوگوں کا یہ کہنا کہ اس بیماری کا علاج ہی نہیں یہ ان لوگوں کے کہنے کی بات ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے جن کے ایمان کمزور ہو چکے ہیں جو کہتے ہیں ہمیں یہ جو بیماری لاحق ہوئی ہے یہ بہت ہی نا یاب ہے ۔

یہ کسی کسی کو بیماری یہ لاحق ہے اور اس کا تو دنیا میں کوئی علاج اترا ہی نہیں ہے تو ایسے لوگوں کا ایمان جو ہے وہ پختہ نہیں ہے ان کا ایمان بہت ہی زیادہ کمزور ہو چکا ہے جو کہ مضبوط کر نے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول کے فرا مین کو جنہیں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور احادیثِ مبارکہ کو نہیں پڑھتے ہیں

کیونکہ حدیث میں تو آیا ہے کہ اللہ نے زمین پر ہر بیماری کا علاج اتارا ہے جو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں ۔

اور جو نہیں جانتے وہ جان ہی نہیں پاتے۔ ویسے کہتے ہیں کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے یہ لا علاج مرض ہے جو کہ اس بات کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی فر ا مین سے فراموش ہیں یہ وہی لوگ فر ماتے ہیں یہ وہی لوگ کہتے ہیں یہ حدیث ِ بخاری شریف کی حدیث ہے صحیح حدیث ہے۔ اس میں لفظ آجائے کہ اللہ نے ہر بیماری کا علاج بتا یا ہے۔

جو بیماریاں آئیں گی ۔ جو بھی وائرس نازل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے حفاظت فر ما ئیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.