پاکستانیوں کا پسندیدہ وہ کام جس سے بیوی حرام ہوجاتی ہے

نکاح کا بندھن جتنا مضبو ط ہے اتنا ہی یہ بندھن نازک بھی ہے اسلام میں ایسے گناہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ نکاح کے بندھن کو ختم کر دینے والے ہیں یہ گناہ کون سے ہیں ؟اس تحریر میں ہم آپ کو چند پاکیزہ رشتوں کی کچھ ایسی حدود بتانے جارہے ہیں جن میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اگر ان رشتوں میں ذرا برابر بھی بے احتیاطی کی جائے گی تو بیوی اپنے شوہر کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے یعنی ایسا ہونے سے میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔نکاح کے بعد ایک پاکیزہ رشتہ جس میں احتیاط کی ضرورت ہے وہ ہے ساس اور داما د کا ۔یاد رہے کہ نکاح کے بعد بیوی کی ماں کو بھی ویسے ہی سمجھنا چاہئے جیسے کہ اپنی ماں کو سمجھاجاتا ہے ۔

داماد کو چاہئے کہ جو حدود شریعت نے طے کی ہیں ان حدود کی پاسداری کرے کیونکہ نکاح صرف بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی زوجیت کے لئے صرف اس کی بیوی حلال ہوتی ہے لہٰذا باقی سب رشتوں کے ساتھ برتاؤ میں ایک مرد کو بڑے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے بعض اوقات داماد اور ساس کی عمر میں زیادہ فرق نہیں ہوتا اگر خدانخواستہ داماد اور ساس میں کوئی ایسا معاملہ چل پڑے جس کی وجہ سے ان کے تعلقات میں بدنیتی شامل ہوگئی اور وہ ایک دوسرے کے اس طرح سے قریب ہوگئے جس میں شہوت کا عمل داخل ہوا تو اس مرد کے لئے اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی بلکہ ساس کو اس نیت سے دیکھنا یا چھونا بھی نکاح کو ساقط کر دیتا ہے ۔اسی طرح سسر اور بہو کا رشتہ بھی ہے جس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے یہ سب رشتے ایسے ہیں جو کہ ہیں۔

تو محرم لیکن ان کی حدود ہیں اب سسر کے لئے یہ حکم ہے کہ بہو کو اپنی بیٹی جیسی سمجھے اس کو بیٹی کا درجہ دے بعض گھروں میں سسر بہو بامر مجبوری اکثر اوقات اکیلے ہوتے ہیں ان میں اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے جوکہ ان کو شہوت کی نیت سے قریب کر دے چاہے کوئی ایک دوسرے کے قریب شہوت کی نیت سے جائے تو اس صورت میں بھی بیوی اپنے شوہر کے لئے حرام ہوجائے گی یادر ہے کہ آج کل رشتوں میں پہلے تو بے تکلفیاں اختیار کی جاتی ہیں اور ان بے تکلفیوں کو برا نہیں جانا جاتا جو بعد میں اس حد تک چلے جاتے ہیں اور پھر مولوی اور مفتی حضرات کے پیچھے گھومتے پھرتے ہیں کہ ایسی صورت ہوگئی ہے کہ کوئی راستہ نکالے۔

خدارا احکام شریعت کو سیکھیں ان کو وقعت دیں ان کے مطابق زندگی بسر کریں تا کہ ہمارے گھروں میں کوئی ایسی نوبت آنے نہ پائے ۔شریعت نے اس لئے یہ احکام صادرکئے ہیں کہ دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے نہ رہیں کیونکہ جب دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں تو تیسرا شیطان ہوتا ہے شیطان پھر ان کے درمیان وساوس ڈالتا ہے کیونکہ اس کا کام ہی گمراہی کی طرف لے کر جانا ہے لہٰذا شیطان کے چنگل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایسے حالات و واقعات سے بچائیں جن میں شیطان ہم پر حاوی ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ جب بیٹا سات سال سے اوپر ہوجائے تو چاہئے کہ وہ ماں کے ساتھ نہ سوئے اور اسی طرح سے بیٹی جب سات سال سے اوپر ہوجائے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ نہ سوئے ۔یہ شرعی حکم ہے اس لئے اس کی پابندی بہت ضروری ہے اسی طرح سے جب بیٹی نو سال کی ہوجائے تو باپ کو چاہئے کہ اس سے پیار کرنے میں احتیاط کرے باپ کو چاہئے۔

کہ اگر وہ پیار کرنا بھی چاہے تو صرف بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرے بوسہ لینا ہوتو تو بھی سر پر بوسہ لے اسی طرح سے باپ کو چاہئے کہ اپنے جسم کو بیٹی کے جسم سے دور رکھے کیونکہ اگر خدانخواستہ اگر یہ احتیاط نہ برتی گئی اور کہیں باپ نے بیٹی کو ایسے پیار کر لیا کہ باپ کی شہوت یا بیٹی کی شہوت ابھر گئی تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے اپنی بیوی یعنی اس کی بیٹی کی ماں ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور یہی حکم ما ں اور بیٹے کا بھی ہے اس لئے ہماری اپنی بہنوں سے گذارش ہے کہ وہ بھی اپنے بیٹوں سے پیار کرنے میں احتیاط برتیں ۔احکام شریعت کے مطابق ان کو اپنے بستر سے اور اسی طرح بہنوں کے بستر سے دور کریں ۔آج کل دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات کو نہ سیکھنے کی وجہ سے پہلے لاڈ پیار میں بچوں کو بگاڑاجاتا ہے ان کو ان کی حدود نہیں بتائی جاتیں اور پھر بعد میں رونا رویا جاتا ہے جو بے سود ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ بیٹے کو سات سال سے اوپر ہونے پر باپ کے پاس تو سلایا جائے لیکن ماں اپنے پاس نہ سلائے اور بیٹی ماں کے پاس تو سو سکتی ہے لیکن باپ کے پاس نہ سوئے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت سب کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔آمین۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.