پہلے روزے کی تراویح پڑھنے کے فوراً بعد جس نے یہ چھوٹا سا وظیفہ کیا اس کی پسند کی شادی پکی وہ بھی جلد

کچھ لوگ لڑکے یا لڑکیاں کے علاوہ والدین بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ میرے بیٹے اور بیٹی کا رشتہ فلاں جگہ ہو جا ئے اور ان کی دلی خواہش بھی یہی ہو تی ہے کہ لڑکے والے آپ کی بیٹی کو خود آ کر دیکھیں یا وہ لڑکی والوں کا خیال ہو تا ہے کہ آپ خود ان کے گھر چل کر رشتہ لینے جا ئیں یہ آج کا یہ وظیفہ خاص طور پر ان والدین یا لڑکا لڑکی کے لیے ہے جن کی دلی مرادیں ہیں کہ ان کے گھر رشتہ خود چل آ ئے اگر آپ کسی خاص جگہ رشتہ کر نا چاہتے ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ وہ رشتہ بھی خود مانگیں تو اس عمل سے آپ کی خواہش پوری ہو جا ئے گی اور مطلوبہ رشتے کا پیغام دوسری جگہ سے آ جا ئے گا اور اگر کوئی کسی بھی قسم کے جادو کا مسئلہ ہوا یا بندش کا مسئلہ ہوا وہ بھی دور ہو جا ئے گا۔

اور آپ جو ساری مشکلات ہیں وہ بھی حل ہو جا ئیں گی اس عمل سے فوری اثرات آنا شروع ہو جا ئیں گے اور کوئی نہ کوئی ایسا سبب بن جا ئے گا کہ دوسری طرف سے رشتے کا پیغام آ جا ئے گا لیکن اگر جادو کا کوئی اثر ہوا تو اس سے بھی اس قسم کا مسئلہ حل ہو جا ئے گا۔ میں آپ کو بتاتی چلوں کہ آپ نے وظیفہ کرنا کس ٹائم ہے اور کس طرح کر نا ہے تو وظیفے کو غور سے سنیے گا ۔ تو رشتے کا پیغام دوسرے گھر سے منگوانے کا عمل اس طرح سے ہے کہ چاند کی پہلی تاریخ کو عشاء کی نماز کے بعد آپ نے عمل اس ترتیب سے پڑھنا شروع کر دیں ۔

درودِ ابراہیمی گیارہ مر تبہ پڑھنا ہے سورۃ حدید کی پہلی چھ آ یات پانچ دفعہ پڑھنی ہیں اور سورۃ حشر کا آخر ی رکو ع تین بار پڑھنا ہے آمو کل جا مو کل گھیر گھار کے لا مو کل یہ جو آپ نے فقرے ہیں یہ سو مر تبہ پڑھنے ہیں۔ پھر درودِ ابراہیمی گیارہ مر تبہ پڑھنا ہے یہ تمام عمل آپ کے سامنے بتا چکی ہوں آپ نے اسی تر تیب سے اس عمل کو پڑھنا ہے عمل کے بعد آنکھیں بند کر کے دوسرے فریق کا تصور کر یں۔

اور کہیں کہ فوری طور پر فلاں کا رشتہ فلاں کے لیے لے کر آ ئیں اور آپ کو آنا ہی پڑے گا فلاں کی جگہ اور دوسرے فریق کا نام لیں پھر اس کے سینے پر تصور میں ہی پھو نک مار دیں اور آنکھیں کھول دیں یہ عمل آپ نے اکیس دن تک جاری رکھنا ہے عمل کی اجازت کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نے سو روپے صدقہ کر نا ہے ۔ اور پھر یہ عمل کر نا ہے۔ انشاء اللہ اس عمل سے بہت ہی فائدہ ہونے والا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.