کروڑوں کا قرض یوں اترے گا جیسے قرض تھا ہی نہیں،قرض اتارنے کا زبردست وظیفہ

اس تحریر میں قرض کا حل پیش کیاجارہا ہے لوگ کہتے ہیں کہ قرض نے ہماری کمر توڑ دی ہے قرض دن بدن بڑھتا جارہا ہے اور زندگی مشکل سے مشکل ترین ہوتی جارہی ہے اس عمل سے آپ اپنے قرض سے خلاصی پائیں گے۔پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جو خوبصورت زندگی لے کر آئے ہیں اس زندگی میں اس کائنات کے ہر انسان کا جو بھی مسئلہ ہے جو پریشانی ہے جو دکھ ہے درد ہے غم ہے رنج ہے تکلیف ہے اس کا علاج ہے شرط یہ ہے کہ ہم اپنے مسئلے کو پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے سے حل کرناچاہیں یہ جو قرض ہے یہ کسی صورت میں معاف نہیں ہے شہید کا کتنا بڑا درجہ ہے کتنا بڑا مقام ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کا خ و ن کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کے گ ن ا ہ و ں کو معاف فرمادیتے ہیں لیکن اگر اس زمے بھی قرض ہے تو اللہ اس کے قرض کو معاف نہیں کرتا یہ قرض ہم نے ادا کرنا ہے اس کے ادا کئے بنا چارہ کوئی نہیں ہم نے یہ جاننا ہے کہ کیا اسلام میں قرض کو اتارنے کے لئے پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی رہنمائی فرمائی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جبرائیل نے آکر بتایا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو مقروض ہو یہ کلمات نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بتائے اللھم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عن من سواک اے اللہ تو مجھے اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے اپنے ماسوا سے بے نیاز کر دے یہ وہ خوبصورت کلمات ہیں اللھم انی اعوذ بک من الھم والحزن والبخل والجبن وغلبۃ الرجال یہ وہ کلمات ہیں جو پیارے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتلائے اتنے خوبصورت کلمات اور کیا مطلب ہے اس کا اے اللہ یقنا میں تیری پناہ میں آتا ہوں غم اور فکر سے عاجز ہوجانے اور کاہلی سے بزدلی اور بخل سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے رب تعالیٰ ہمیں بتلا رہا ہے

کہ اگر قرض کی وجہ سے تمہیں فکر لاحق ہوگئی ہے غم لاحق ہوگیا ہے تمہیں لوگوں کے غالب آنے کا ڈر لاحق ہوگیا ہے اور تم قرض کے بوجھ سے دبے جارہے ہو تو کیا کہو اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن والبخل والجبن واضلتین وغلبۃ الرجال۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *