کنوارے لڑکا اور لڑکی پہ کس حالت میں غسل واجب ہو جا تا ہے ؟جانیں

آج کا موضوع ہے آپ کو پہلے منی اور مذی کی تعریف معلوم ہوکر فرق سمجھنا چاہئے، منی کہتے ہیں اس سفید گاڑھے پانی کو جو ش ہو ت کے ساتھ اچھل کر نکلے اور نکلنے کے بعد ش ہو ت ختم ہوجائے اس کے نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔ اور مذی کہتے ہیں اس سفید پتلے لس دار پانی کو جو بیوی سے دل لگی کرنے یا قربت کرنے سے پہلے یا کسی کے ساتھ ش ہو ت انگیز بات کرنے یا ش ہو ت انگیز مناظر دیکھنے اور سننے سے بغیر اچھلے اور بغیر ش ہو ت کے نکلے، اور اس کے نکلنے سے ش ہو ت ختم نہیں ہوتی بلکہ او ربڑھ جاتی ہے۔

بد نظری یا برے خیالات کے بعد عموماً مذی نکلتی ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کو جو قطرہ نکلتا ہے وہ بظاہر مذی معلوم ہوتا ہے جس کا حکم یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتاہے، غسل واجب نہیں ہوتا اور کپڑے کے جس حصہ میں لگ جائے صرف اتنے حصہ کا دھونا ضروری ہوتا ہے، رہا نیند سے اٹھنے کے بعد آپ کو جو قطرہ نظر آتا ہے تو اگر آپ کو مذکورہ بالا تعریف کی روشنی میں یقین ہوجائے کہ یہ منی ہے خواہ خواب یاد ہو یا نہ ہو یا منی اور مذی ہونے میں شک ہو یا مذی ہونے کا یقین ہواور خواب یاد ہوتو غسل جنابت واجب ہوگا۔

اور اگر مذی ہونے کا یقین ہو اور خواب یاد نہ ہوتو غسل واجب نہیں واضح رہے کہ مش ت زنی کرنا سخت گناہ ہے اس کی وجہ سے آدمی کو دینی اور دنیاوی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے اس سے بالکل پر ہیز کرنا چاہئے اور بدنظری کرنا اور برے خیالات دل میں لانا بھی آدمی کے لیے سخت نقصان دہ ہے اس سے بھی احتراز کرنا چاہئے۔ نسان کے لئے جنابت واقع ھونے کی دو چیزیں سبب ھوتی ہیں قربت جب مرد کا آلہ تناسل ختنہ گاہ کی مقدار میں مرد یا عورت، بالغ یا نا بالغ کی ش ر م گاہ یا مقعد میں داخل ھو جائے، اگر چہ منی بھی نہ نکلے۔

منی کا نکلنا، خواہ خواب میں ھو یا بیداری میں کم ھو یا زیادہ، شہوت کے ساتھ ھو یا بغیر شہوت ھو، اختیار سے ھو یا بلا اختیاراس بنا پر سوال کے فرض کے مطابق اگر مراد یہ ھو کہ دخول انجام پایا ہے تو مرد و زن دونوں پر غسل جنابت واجب ہے ۔ لیکن اگر دخول انجام نہیں پایا ہے اور صرف مرد سے منی نکلی ہے، تو اس صورت میں صرف مرد جنب ھوا ہے ، اور اسی پر غسل جنابت واجب ہے، اس کی بیوی جنب نہیں ھوئی ہے ، کیونکہ نہ دخول انجام پایا ہے اور نہ اس سے منی خارج ھوئی ہے ۔ اگر ان کے لباس نجس ھوئے ھوں تو انھیں دھو لینا چاہئیے لیکن اگر ان کا لباس نجس نہیں ھوا ھو تو نماز کے لئے اسے زیب تن کرنے کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *