کورونا کی وجہ سے اگر ملازمت چلی گئی ہے تو رمضان کے پہلے عشرے کے اندر یہ چھوٹا سا عمل کریں، ملازمت پکی

آج آپ کو مال و دولت کے لیے ایک طاقت ور عمل بتاؤں گا۔ یہ عمل رسول اللہﷺ نے ایک شخص وک عنایت فر ما یا تھا اس عمل کی اہمیت اور مقبو لیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے سرکار ِ دو عالم ﷺ سے ثابت ہے اور انہوں نے ایک شخص کو بتا یا تھا اور فر ما یا کہ جا ؤ اس عمل کو فجر کی نماز کے بعد کیا کر و دنیا ذلیل ہو کر خود تمہارے پا س آئے گی وہ شخص یہ عمل لے کر چلا گیا اور چند دنوں بعد واپس آ یا اور آپ ﷺ سے فر ما یا ! یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس اتنی دولت ہو گئی ہے رکھنے کو جگہ نہیں ہے۔

یہ عمل آپ عام دنوں میں بھی کر سکتے ہیں لیکن رمجان المبارک میں جہاں عام نیکی کا ثواب بڑ ھ جا تا ہے وہیں اس عمل کی قبو لیت کے بھی زیادہ چانسز ہیں۔ اس عمل کو آپ کے ساتھ شئیر کر نے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں سحری کے وقت ہر بندہ جا گتا ہے تو اس عمل کو فجر کی نماز ا دا کر کے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ رمضان عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں جھل سا دینے والا اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے۔

اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آ یا تو سخت اور جھل سا دینے والی گرمی میں آیا تھا لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گ ن ا ہ وں کو جھل سا دیتے ہیں اور معاف فر ما دیتے ہیں اس لیے اس مہینے کو رمضان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فر ما یا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں پھنسا رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہو جا تی ہے۔

روحانیت اور اللہ کے قرب میں کمی وا قع ہو جا تی ہے تو رمضان المبارک آدمی اللہ کی عبادت کر کے اس کمی کو دور کر سکتا ہے دلوں کی گفلت اور زنگ کو ختم کر سکتا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو جا ئے۔ امام مالک ؒ نے عمر ؓ سے روایت کیا ہے ایک روزہ ایک شخص بارگاہِ عالیہ میں حا ضر ہوا اور عرض کی دنیا نے میری طرف سے پیٹھ پھیر لی ہے اور منہ بھی پھیر لیا ہے سرور ِ کا ئنات ﷺ نے اس آدمی کو کہا کہ ملا ئکہ کی جو نماز اور اللہ کی مخلوق کی جو تسبیح ہے اس سے تو کیوں غافل ہو گیا ہے اسی کے صدقے ان سب کو رزق دیا جا تا ہے جب صبح صادق طلوع ہو سو بار پڑھ لیا کرو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.