80 لاکھ رمضان سے پہلے مل کر رہے گا، اللہ کے یہ دو نام یوں پڑھیںاتنا بڑا معجزہ ہوگا کہ یقین نہیں کریں گے

جو لوگ روزی کی وجہ سے پریشان ہیں مصیبت میں ہیں۔ ان کے لیے ماہ شعبان کا ایک وظیفہ بتاتے ہیں ۔ اس وظیفے کو ضرورکریں ۔ اگر آپ کو اسی لاکھ کی بھی ضرورت ہوگی اللہ پاک آپ کو آپ کی ضرورت کے مطابق روزی عطاکرے گا۔ اگر لو گ کے اللہ کے سامنے اپنی حاجات رکھا کریں۔ تو انشاءاللہ ان کی دعائیں مراد لاتی ہیں۔ ملک میں بے روزگار ی بہت عام ہے۔ اکثر نوجوانوں کو دیکھا ہے کہ وہ ملازمتوں کی تلا ش میں ہر طرح کی سفارش آزماتے ہیں ۔ مگر اللہ سے لو نہیں لگاتے۔

ایسے نوجوان جنہیں غیر معمولی کامیانی چاہیے ہو انہیں مشورہ دوں گا۔ وہ تسبیح شعبان کے آخری دنوں میں پڑھنا شروع کردیں۔ انشاءاللہ اگر ان کو اسی لاکھ کی بھی ضرور ت پڑ ے گی۔ وہ بھی اس عمل کےذریعے اللہ تعالیٰ ضرور پوری فرمائیں گے۔ ماہ شعبان کے جو چند دن رہ گئے ہیں۔ ان چند دن کو قیمتی بنا کر آج ہی سے روزانہ نماز عصر کے بعد اکتالیس مرتبہ ” یا اللہ یا باسط” پڑھیں۔ اور اول وآخر تین تین مرتبہ درود پاک پڑھیں۔ انشاءاللہ ! اس عمل سے آپ خودمشاہد کر لیجیے گا۔

آپ کو جتنی رقم کی ضرور ت ہوگی اللہ پاک ایسا غیبی سبب بنادیں گے ۔کہ وہ آپ کو ملکر ر ہے۔ اس عمل کوکرتے ہوئے یہ ذہن میں ہرگز مت آئےکہ ہمیں اس عمل سے معلوم نہیں کہ روزی ملے گی یا نہیں ؟ یاد رکھیں ایسا کوئی سوال ذہن میں آجائے تو اس عمل کو کرنےسےآپ کو کوئی فائد ہ نہیں ۔ وظیفہ کرتے وقت آپ یہ سوچ لیں کہ آپ اس رب سے مانگ رہے ہیں جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ وہ اکیلا ہی سارے جہانوں کو روزی دیتا ہے۔ جس بہن بھائی کا روزی کامسئلہ ہو۔ وہ شعبان کےان دنوں میں اس عمل کو ضرور کریں۔ اللہ پاک آپ کو چند دنوں میں روزی کا ایسا غیبی انتظام کردیں گے کہ آپ کے ذہن و گمان میں نہیں ہوگا۔ حضر ت سلیمان ؑ کا واقعہ تو سنا ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جب دیکھا کہ اللہ پاک نے ان کے لیے دنیا کو وسیع کردیا ہے۔

دنیا کی طاقت ان کے ہاتھ میں ہوگئی ہے۔ تو کہنے لگے اے میر ے معبود !اگر مجھے اجازت دیں میں آپ کی مخلوقات کو کھلاؤ تو بہترہوتا۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجی تو اس پر ہرگز قدرت نہیں رکھتا ۔ حضرت سلیمان ؑ نے پھر درخواست کی ایک ہفتے کے لیے ایسا ہوجائے اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت سلیمان ؑ نے پھردرخواست کی ایک دن کے لیے اجازت دیدیں۔ اللہ کی طرف سے وحی ملی تو اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا لیکن ایک دن کی ضیافت کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے تمام جنات اور انسانوں کو حکم دیا کہ وہ تمام کے تمام ان چیزوں جو زمین پر حلال نہیں یعنی گائے ، بیل ، بکریاں ، دھنبے وغیرہ ان تمام چیزوں کو جو جن س حیوان میں سے ہیں۔

یعنی پرندے وغیرہ ان کوجمع کریں۔چنانچہ جن و انس ان تمام کوجمع کرلیا۔ بڑی بڑی دیگیں تیار کرلیں۔ ان تمام جانوروں کو ذبح کرکے پکایاگیا۔ حضرت سلیمانؑ نے ہوا کوحکم دیا کہ کھانے پر چلے تاکہ خراب نہ ہو۔ پھر کھانوں کو جنگل میں پھیلا دیا۔ اس کھانے کی دعوت کی لمبائی ایک مہینے کی مسافت کے برابر تھی اور چوڑائی بھی اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ سے حضرت سلیمانؑ سے دعا فرمائی تواللہ رب العزت نے وحی نازل فرمائی تو مخلوقات میں سے کس سے دعوت شروع کرے گا۔ تو حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں سمندروں کے جانوروں سے شروع کروں گا۔ اللہ پاک نے بحر محیط کی ایک مچھلی کو حکم دیا کہ وہ سلیمانؑ کی ضیافت میں سے کھائے۔

چنانچہ وہ مچھلی آگئی اور حضرت سلیمانؑ سے کہنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ تونے ضیافت کا دروازہ کھول دیا ہےاور آج میری ضیافت تو کرے گا۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایاایسے ہی ہے۔ اور کھانا شروع کر۔ چنانچہ وہ مچھلی آگے بڑھی اور دسترخوان شروع سے کھانے لگی ۔ مچھلی نے اس قدر کھایا۔ کچھ دیر میں جتنا بھی کھایا وہ سب کچھ اکیلے کھاگئی۔ سب کھا کر مچھلی نے حضرت سلیمان ؑ کو آواز دے کر کہا اے سلیمانؑ مجھے اور کھانا کھلا۔ حضرت سلیمان ؑ نے حیرانگی سے فرمایا: تو سب کچھ کھاگئی ہےاور ابھی بھی پیٹ نہیں بھرا۔ مچھلی بولی کیا مہمان کے لیے میزبان ایسا جواب دیتے ہیں۔

اے سلیمانؑ آپ خوب جا ن لیں میرے لیے آپ نے جتنے پکایااتنا کھانا میر ے اللہ مجھے دن میں تین مرتبہ دیتا ہے۔ جبکہ تو آج میرے کھانے میں کمی کی وجہ بن گیا ہے اور تونے میری کھانے میں کمی کردی ہے۔ یہ سننا کہ تھا اسی وقت اسی لمحے حضر ت سلیمان ؑ اللہ رب العزت کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے پاک ہے وہ ذا ت جو مخلوقات کی روزیوں کے ساتھ کفالت کرنے والی ہے ۔ جہاں سے مخلوق جانتی نہیں کہ آتا کہاں سے ہے۔ اس لیے جب اللہ سے دعامانگا کریں تو یہ ہر گز مت سوچیں کہ ہمیں ملے گا یا نہیں ۔ آپ عمل کرکے دیکھیں پھر دیکھیں کہ وہ آپ کو کتنا عطاکرتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *